Estb. 1882

University of the Punjab

News Archives

News Updates

پروفیسرڈاکٹر ناصر عباس نئیر کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب‎

پروفیسرڈاکٹر ناصر عباس نئیر کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب‎


اساتذہ کسی بھی معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کرداراداکرتے ہیں ۔ نسل نوکی تشکیل شخصیت میں والدین کے بعداستاد ہی ہے جو جلوہ گرہوتاہے ۔ان خیالات کا اظہار ممتازنقادافسانہ نگار اور استاد پروفیسرڈاکٹر ناصر عباس نیر کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا ۔ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر انتظام اردو ادب کے معروف مصنف ،محقق، تخلیق کار ،اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی اپنے تدریسی منصب سے سبکدوشی کے موقع پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت معروف شاعر، محقق اور عالم ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی۔ مہمان مقررین میں ڈاکٹر اشفاق احمدورک،ڈاکٹرنجیب جمال،ڈاکٹر شاہ زیب خان ،ڈاکٹرخالد محمود سنجرانی ،ڈاکٹر اورنگزیب نیازی،ابق بیورکریٹ اور مصنف رانا محبوب اختر اور ترکی سے آئے ہوئے نوجوان اسکالر محمد حذیفہ، شامل تھے اس تقریب کی نظامت کے فرائض غلام علی(متعلم، بی ایس اردو) نے انجام دیے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کے بعد بارگاہ رسالت ماب میں ہدیہ نعت پیش کیا گیا۔ تلاوت نعمان علی اور نعت جشن عباس نے پیش کی۔
مہمان مقررین نے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی شخصیت اور ان کی تحریروں میں پائی جانے والی خوبیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تمام مقررین نے ڈائریکٹر ادارہ تالیف و ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا شکریہ ادا کیا اور اس شاندار تقریب کے انعقاد پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ناصر عباس نئیر صاحب کے لیے ایک خوبصورت نظم تخلیق کی۔ جس کو سن کر سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سے اپنی دیرینہ رفاقت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے لیے لکھا گیا اپنا ایک مضمون پیش کیا اور اردو زبان و ادب بالخصوص اردو تنقید پر کیے گئے ان کے کام کو سراہا۔ انہوں نے مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی سبکدوشی کو یونیورسٹی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ڈاکٹر ناصر عباس نئیر نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر سے اپنی 35 سالہ رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اورینٹل کالج میں موجود اساتذہ میں سے جس شخص سے وہ سب سے پہلے متعارف ہوئے وہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر تھے۔انہوں نے اپنی سبکدوشی اور اس تقریب کے حوالے سے ایک مضمون پیش کیا۔ جس میں انہوں نے نہ صرف ادارہ تالیف و ترجمہ کا شکریہ ادا کیا بلکہ اس تقریب میں شامل ہونے والے تمام شرکاء کا شکریہ بھی ادا کیا اور اپنے تمام طلبہ و طالبات کے لیے دعاؤں اور نیک جذبات کا اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر خورشید رضوی نے اپنے خطبہ صدارت میں ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی شخصیت اور ان کے فن کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے تمام مہمان مقررین کو ادارہ تالیف و ترجمہ سے شائع ہونے والی مختلف کتب کا تحفہ پیش کیا اور ادارہ تالیف و ترجمہ کی طرف سے ڈاکٹر ناصر عباس نئیر کی ادبی وتدریسی خدمات کے اعتراف میں انھیں اعزازی شیلڈ پیش کی۔اس تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات اسکالرزاور شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔